ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / منگلورو میں پُرامن احتجاجیوں پر لاٹھی چار ج کرنے کا پولس کو کوئی حق نہیں : لاٹھی چارج پر ادارہ حقوق انسانی سمیت کئی اداروں کی سخت مذمت

منگلورو میں پُرامن احتجاجیوں پر لاٹھی چار ج کرنے کا پولس کو کوئی حق نہیں : لاٹھی چارج پر ادارہ حقوق انسانی سمیت کئی اداروں کی سخت مذمت

Wed, 05 Apr 2017 19:32:11    S.O. News Service

منگلورو:5/اپریل(ایس اؤنیوز)احمد قریشی سے انصاف کا مطالبہ لے کر جن کارکنوں نے پر امن احتجاج کیا تھا ان پر متعصبانہ ذہنیت کے ساتھ لاٹھی چارج کرنا قابل مذمت ہے ۔ حکومت فوری طورپر خاطی پولس اہلکاروں کو معطل کرے اور نا انصافی کرنے والے پولس کے خلاف سخت کارروائی کرے، اس بات کا مطالبہ  ادارہ حقوق انسانی کے ضلعی صدر طاہر سالمار نےکیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ  پولس کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ خاموش احتجاجیوں پر لاٹھی چارج کریں۔ پولس کارروائی درحقیقت جمہوریت کا سفاکانہ قتل اور حقوق انسانی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس سلسلے میں ریاستی صدر ڈاکٹر موہن راؤ نے قومی حقوق انسانی کمیشن کو کل شکایت دینے کی بات کہی۔

کوموسوہاردا ویدیکے کی طرف سے پولس کے ظالمانہ رویہ کی کڑی مذمت 

پولس تحویل میں رہنے والے ملزم کے ساتھ غیر انسانی سلوک اختیار کرتے ہوئے پولس کے  ظالمانہ رویہ اور اس کے خلاف احتجاج کئے ہوئے کارکنوں کے خلاف لاٹھی چارج کئے جانے کی کوموسوہارداویدیکے نے کڑی مذمت کرتے ہوئے معاملے کو حقوق انسانی کی کھلی توہین قرار دیا ہے۔ ویدیکے کے ریاستی جنرل سکریٹری کے ایل اشوک اورضلعی صدر سریش بھٹ باکرا بائیل نے ریاستی حکومت سے خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے 

ضلع اظہریس نے بھی کی واقعے کی سخت مذمت

کسی ایک معاملے کو لے کر سی سی بی پولس نے گرفتار شدہ احمد قریشی نامی نوجوان سے پوچھ تاچھ کے بہانے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہفتہ بھر پولس نے اپنی تحویل میں رکھ کر بعد میں کڈنی بے کار کردینے کی حدتک انسانیت سوز جو ظلم ڈھایا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ خاطی افسران کے خلاف ریاستی حکومت سخت کارروائی کرے، اس بات کا مطالبہ ضلع اظہریس نامی ادارے نے کیا ہے۔

ساحلی اضلاع میں مسلسل مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنا کر کسی ایک معاملے میں انہیں گرفتار کرکے انہیں کسی اور معاملے میں پھنسانے کی لگاتار سازشیں ہورہی ہیں، اس کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان کو ناکام بنانے کی لگاتار کوششیں ہورہی ہیں، اور برسراقتدار پارٹی آنکھیں بند کرخاموش تماشائی بنے رہنا بھی مذمت کے قابل ہے۔ ایک خاندان کا سہارا احمد قریشی پر پوچھ تاچھ کے بہانے غیر انسانی ظلم روا رکھنے والے  افسران کی جانچ کی جائے ، نوجوان کو معاوضہ اداکریں اور خاطی افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ اگر مسلم نوجوان مجرم ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کریں، اس کے بجائے ان پر حیوانیت جیسا ظلم کرنا قابل مذمت ہے۔ اگر ریاستی حکومت اسی طرح خاموش تماشائی بنی رہی تو ساحلی اضلاع کے مزیدبے شمار مسلم نوجوان بلی کا بکرا بنیں گے ، سیاست کے نام پر مسلمانوں پر لگاتار ظلم ڈھایا جارہاہے۔انہوں نے کل منگل کو ہوئےمعاملہ کے پس منظر میں منصفانہ جانچ کرکے انصاف دلانے کی  مانگ کی ہے۔

مسلم جماعت کونسل کی مذمت

پولس تحویل میں موجود احمد قریشی سے پوچھ تاچھ کے دوران اس پر اتنا ظلم ڈھایا گیا کہ اس کے گردے ناکارہ  ہوگئے۔ لگاتار ایک ہفتہ تک اس کے ساتھ بربریت کا جو سلوک کیا گیا ، اور پھر اس ظلم کے خلاف احتجاج کیا جاتاہے تو احتجاجیوں پر طاقت کا استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔ خاطی افسران کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے، یہ بات  کرناٹکا مسلم جماعت کونسل کے جنرل سکریٹری ابو سفیان ، ایچ آئی ابراہیم نے کی ہے۔ پر امن شہر میں ایسے ظلم کی وارداتیں بد امنی کو جگہ دیتی ہیں اور اس طرح کے وااقعات سے جرم زیادہ ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

 

 اس سے قبل شائع رپورٹ:

مینگلور میں پولس پرغنڈہ گردی کا الزام؛ زندگی اور موت سے جوج رہا ہے نوجوان؛ احتجاجیوں پر برسائی گئیں لاٹھیاں؛ واقعے کی چوطرفہ مذمت


Share: